میر تقی میر میر تقی میر

یاد خط میں اس کے جی بھر آ کے گھبراتا رہا

یاد خط میں اس کے جی بھر آ کے گھبراتا رہا رات کا بھی کیا ہی مینھ آیا تھا پر جاتا رہا کیا قیامت ہوتی بے پردہ ہوئے کیا جانیے مصلحت ہی ہو گی ہم سے وہ جو شرماتا رہا قدموزوں یار کا خاطر سے جاتا ہی نہیں میں اسی مصرع کو ساری عمر ڈولاتا رہا کل مکل بیتاب دل سے آج کل کی کچھ نہیں میں تو اس غم کش کو بے کل ہی سدا پاتا رہا آگ کھا جاتی ہے خشک و تر جو اس کے منھ پڑے میں تو جیسے شمع اپنے ہی تئیں کھاتا رہا میری تیری چاہ منھ دیکھے کی ہے جوں آرسی آنکھ پھیری جس گھڑی پھر کاہے کا ناتا رہا ہو گئے ہم محتسب کی بے شعوری سے اسیر شیخ میں کچھ ہوش تھا میخانے سے جاتا رہا لوگ ہی اس کارواں کے حرف نشنو تھے تمام راہ چلتے تو جرس ہر گام چلاتا رہا میر دیوانہ ہے اچھا بات کیا سمجھے مری یوں تو مجھ سے جب ملا میں اس کو سمجھاتا رہا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR