میر تقی میر میر تقی میر

ہجر کی اک آن میں دل کا ٹھکانا ہو گیا

ہجر کی اک آن میں دل کا ٹھکانا ہو گیا ہر زماں ملتے تھے باہم سو زمانہ ہو گیا واں تعلل ہی تجھے کرتے گئے شام و سحر یاں ترے مشتاق کا مرنا بہانہ ہو گیا شیب میں بھی ہے لباس جسم کا ظاہر قماش پر اسے اب چھوڑیے جامہ پرانا ہو گیا کہنے تو کہہ بیٹھے مہ بہتر ہے روے یار سے شہر میں پھر ہم کو مشکل منھ دکھانا ہو گیا صد سخن آئے تھے لب تک پر نہ کہنے پائے ایک ناگہاں اس کی گلی سے اپنا جانا ہو گیا رہنے کے قابل تو ہرگز تھی نہ یہ عبرت سرائے اتفاقاً اس طرف اپنا بھی آنا ہو گیا سینکڑوں افسوں دنوں کو پڑھتے تھے تس پر بھی میر بیٹھنا راتوں کو باہم اب فسانہ ہو گیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR