میر تقی میر
تد اس بہشتی رو سے یہ خلطہ بہم کیا
تد اس بہشتی رو سے یہ خلطہ بہم کیا
جد برسوں ہم نے سورئہ یوسفؑ کو دم کیا
چہرے کو نوچ نوچ لیا چھاتی کوٹ لی
جانے کا دل کے ہم نے بہت غم الم کیا
مربوط اور لوگوں سے شاید کہ وے ہوئے
وہ ربط و رابطہ جو بہت ہم سے کم کیا
کیا کیا سخن زباں پہ مری آئے ہوکے قتل
مانند خامہ گوکہ مرا سر قلم کیا
کی ہم نے تب درونے کی سوزش سے عاقبت
سب تن بدن اس آگ نے اپنا بھسم کیا
یاں اپنے جسم زار پہ تلوار سی لگی
ان نے جو بے دماغی سے ابرو کو خم کیا
اس زندگی سے مارے ہی جانا بھلا تھا میر
رحم ان نے میرے حق میں کیا کیا ستم کیا