میر تقی میر میر تقی میر

وہ دل نہیں رہا ہے تعب جو اٹھائے گا

وہ دل نہیں رہا ہے تعب جو اٹھائے گا یا لوہو اشک خونی سے منھ پر بہائے گا اب یہ نظر پڑے ہے کہ برگشتہ وہ مژہ کاوش کرے گی ٹک بھی تو سنبھلا نہ جائے گا کھینچا جو میں وہ ساعد سیمیں تو کہہ اٹھا بس بس کہیں ہمیں ابھی صاحب غش آئے گا ریجھے تو اس کے طور پہ مجلس میں شیخ جی پھر بھی ملا تو خوب سا ان کو رجھائے گا جلوے سے اس کے جل کے ہوئے خاک سنگ و خشت بیتاب دل بہت ہے یہ کیا تاب لائے گا ہم رہ چکے جو ایسے ہی غم میں کھپا کیے معلوم جی کی چال سے ہوتا ہے جائے گا اڑ کر لگے ہے پائوں میں زلف اس کی پیچ دار بازی نہیں یہ سانپ جو کوئی کھلائے گا اڑتی رہے گی خاک جنوں کرتی دشت دشت کچھ دست اگر یہ بے سر و ساماں بھی پائے گا درپے ہے اب وہ سادہ قراول پسر بہت دیکھیں تو میر کے تئیں کوئی بچائے گا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR