میر تقی میر میر تقی میر

دین و دل کے غم کو آساں ناتواں میں لے گیا

دین و دل کے غم کو آساں ناتواں میں لے گیا یا محبت کہہ کے یہ بارگراں میں لے گیا خاک و خوں میں لوٹ کر رہ جانے ہی کا لطف ہے جان کو کیا جو سلامت نیم جاں میں لے گیا سرگذشت عشق کی تہ کو نہ پہنچا یاں کوئی گرچہ پیش دوستاں یہ داستاں میں لے گیا عرصۂ دشت قیامت باغ ہوجائے گا سب اس طرح سے جو یہ چشم خوں فشاں میں لے گیا ذکر دل جانے کا وہ پرکینہ سن کہنے لگا یہ سناتے ہو کسے کیا مہرباں میں لے گیا یک جہاں مہر و وفا کی جنس تھی میرے کنے لیکن اس کو پھیر ہی لایا جہاں میں لے گیا ریختہ کاہے کو تھا اس رتبۂ اعلیٰ میں میر جو زمیں نکلی اسے تا آسماں میں لے گیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR