میر تقی میر میر تقی میر

آج ہمیں بیتابی سی ہے صبر کی دل سے رخصت تھی

آج ہمیں بیتابی سی ہے صبر کی دل سے رخصت تھی چاروں اور نگہ کرنے میں عالم عالم حسرت تھی کس محنت سے محبت کی تھی کس خواری سے یاری کی رنج ہی ساری عمر اٹھایا کلفت تھی یا الفت تھی بدنامی کیا عشق کی کہیے رسوائی سی رسوائی ہے صحرا صحرا وحشت بھی تھی دنیا دنیا تہمت تھی راہ کی کوئی سنتا نہ تھا یاں رستے میں مانند جرس شور سا کرتے جاتے تھے ہم بات کی کس کو طاقت تھی عہد ہمارا تیرا ہے یہ جس میں گم ہے مہر و وفا اگلے زمانے میں تو یہی لوگوں کی رسم و عادت تھی خالی ہاتھ سیہ رو ایسے کاہے کو تھے گریہ کناں جن روزوں درویش ہوئے تھے پاس ہمارے دولت تھی جو اٹھتا ہے یاں سے بگولا ہم سا ہے آوارہ کوئی اس وادی میں میر مگر سرگشتہ کسو کی تربت تھی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR