میر تقی میر
رنج کی اس کے جو خبر گذرے
رنج کی اس کے جو خبر گذرے
رفتہ وارفتہ اس کا مر گذرے
ایک پل بھی نہ اس سے آنسو پنچھے
روتے مجھ کو پہر پہر گذرے
جوے خوں آنکھوں سے بہی شاید
خون سے میرے بھی وے درگذرے
راہ جاناں سے ہے گذر مشکل
جان ہی سے کوئی مگر گذرے
مارے غیروں کو یا مرے عاشق
کچھ نہ کچھ چاہیے کہ کر گذرے
غنچہ ہو شرم سے ان آنکھوں کی
گل نرگس اگر نظر گذرے
سر کا جانا ہی ہر قدم ہے میر
کیا کوئی اس کی راہ پر گذرے