میر تقی میر میر تقی میر

دل کی بات کہی نہیں جاتی چپکے رہنا ٹھانا ہے

دل کی بات کہی نہیں جاتی چپکے رہنا ٹھانا ہے حال اگر ہے ایسا ہی تو جی سے جانا جانا ہے اس کی نگاہ تیز ہے میرے دوش و بر پر ان روزوں یعنی دل پہلو میں میرے تیرستم کا نشانہ ہے دل جو رہے تو پائوں کو بھی دامن میں ہم کھینچ رکھیں صبح سے لے کر سانجھ تلک اودھر ہی جانا آنا ہے سرخ کبھو آنسو ہیں ہوتے زرد کبھو ہے منھ میرا کیا کیا رنگ محبت کے ہیں یہ بھی ایک زمانہ ہے اس نومیدی بے غایت پر کس مقدار کڑھا کریے دو دم جیتے رہنا ہے تو قیامت تک مر جانا ہے فرصت کم ہے یاں رہنے کی بات نہیں کچھ کہنے کی آنکھیں کھول کے کان جو کھولو بزم جہاں افسانہ ہے فائدہ ہو گا کیا مترتب ناصح ہرزہ درائی سے کس کی نصیحت کون سنے ہے عاشق تو دیوانہ ہے تیغ تلے ہی اس کے کیوں نہ گردن ڈال کے جا بیٹھیں سر تو آخرکار ہمیں بھی خاک کی اور جھکانا ہے آنکھوں کی یہ مردم داری دل کو کسو دلبر سے ہے طرزنگہ طراری ساری میر تمھیں پہچانا ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR