میر تقی میر میر تقی میر

عشق کیا ہے جب سے ہم نے دل کو کوئی ملتا ہے

عشق کیا ہے جب سے ہم نے دل کو کوئی ملتا ہے اشک کی سرخی زردی چہرہ کیا کیا رنگ بدلتا ہے روز وداع لگا چھاتی سے وہ جو خوش پرکار گیا دل تڑپے ہے جان کھپے ہے سینہ سارا جلتا ہے گور بغیر آرام گہ اس کو دنیا میں پھر کوئی نہیں عشق کا مارا آوارہ جو گھر سے اپنے نکلتا ہے ضعف دماغی جس کو ہووے عشق کے رنج و محنت سے جی بھی سنبھلتا ہے اس کا پر بعد از دیر سنبھلتا ہے شورجرس شب گیر کا غافل تیاری کا تنبہ ہے یعنی آنکھ نہ لگنے پاوے قافلہ صبح کو چلتا ہے بال نہیں عاشق کے بدن پر ہربن مو سے نکلا دود بل کر اس کو جلاتے کیا ہو آپھی جلتا بلتا ہے میرستم کشتہ کی سماجت ہے مشہور زمانے کی جان دیے بن آگے سے اس کے کب وہ ظالم ٹلتا ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR