میر تقی میر میر تقی میر

عشق چھپاکر پچھتائے ہم سوکھ گئے رنجور ہوئے

عشق چھپاکر پچھتائے ہم سوکھ گئے رنجور ہوئے یعنی آنسو پی پی گئے سو زخم جگر ناسور ہوئے ہم جو گئے سرمست محبت اس اوباش کے کوچے میں کھائیں کھڑی تلواریں اس کی زخمی نشے میں چور ہوئے کوئی نہ ہم کو جانے تھا ہم ایسے تھے گمنام آگے یمن عشق سے رسوا ہوکر شہروں میں مشہور ہوئے کیا باطل ناچیز یہ لونڈے قدر پر اپنی نازاں ہیں قدرت حق کے کھیل تو دیکھو عاشق بے مقدور ہوئے سر عاشق کا کاٹ کے ان کو سربگریباں رہنا تھا سو تو پگڑی پھیر رکھی ہے اور بھی وے مغرور ہوئے زرد و زبون و زار ہوئے ہیں لطف ہے کیا اس جینے کا مردے سے بھی برسوں کے ہم ہجراں میں بے نور ہوئے پاس ہی رہنا اکثر اس کے میر سبب تھا جینے کا پہنچ گئے مرنے کے نزدیک اس سے جو ٹک دور ہوئے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR