میر تقی میر
حال رہا ہو ہم میں کچھ تو حال کسو سے کہا جاوے
حال رہا ہو ہم میں کچھ تو حال کسو سے کہا جاوے
آن رہے ہیں آج دموں پر کل تک کیونکے رہا جاوے
اس کی گلی وہ ظلم کدہ ہے آ نکلے جو کوئی وہاں
گرد رہ عشق آلودہ تو لوہو میں اپنے نہا جاوے
آنکھوں کی خوننابہ فشانی دیکھیں میر کہاں تک یہ
زرد ہمارے رخساروں پر ہر دم خون بہا جاوے