میر تقی میر
عشق میں کھوئے جائوگے تو بات کی تہ بھی پائوگے
عشق میں کھوئے جائوگے تو بات کی تہ بھی پائوگے
قدر ہماری کچھ جانوگے دل کو کہیں جو لگائوگے
صبر کہاں بیتابی دل سے چین کہاں بے خوابی سے
سو سو بار گلی میں تکتے گھر سے باہر آئوگے
شوق کمال کو پہنچا تو ہیں خط و کتابت حرف و سخن
قاصد کے محتاج نہ ہو گے آپھی دوڑے جائوگے
صنعت گریاں صاحب بندہ دل کے لگے کب پیش گئیں
ایک نہیں وہ سننے کا تم باتیں بہت بنائوگے
چاہ کیے درویش ہوئے تو آب و خورش کی فکر نہیں
لوہو پیوگے اپنا ہر دم غم غصہ ہی کھائوگے
رنگ محبت کے ہیں کتنے کوئی تمھیں خوش آوے گا
خون کروگے یا دل کو یا داغ جگر پہ جلائوگے
رہتے ہیں مبہوت الفت ہیں گم گشتہ کلفت میں
بھولے بھولے آپھی پھروگے کس کو راہ بتائوگے
اشک تو پانی سے ہیں لیکن جلتے جلتے آویں گے
دل کے لگے حیران ہوں صاحب کس ڈھب مل کے بجھائوگے
چاہت میر سبھی کرتے ہیں رنج و تعب میں رہتے ہیں
تم جو ابھی بیتاب ہو ایسے جی سے ہاتھ اٹھائوگے