میر تقی میر میر تقی میر

ان حنائی دست و پا سے دل لگی سی ہے ابھی

ان حنائی دست و پا سے دل لگی سی ہے ابھی میں نے ناخن بندی اپنی عشق میں کی ہے ابھی ہاتھ دل پر زور سے اپنے نہ رکھا چاہیے چاک کی چھاتی مری جراح نے سی ہے ابھی ایک دم دکھلائی دیتا بھی تو مرتے آ کہیں شوق سے آنکھوں میں کوئی دم مرا جی ہے ابھی دیکھیں اک دو دم میں کیونکر تیغ اس کی ہو بلند کوئی خوں ریز ان نے اپنی میان سے لی ہے ابھی کس طرح ہوں معتقد ہم اتقاے شیخ کے صبح کو رسم صبوحی سے تو مے پی ہے ابھی آگے کب کب اٹھتے تھے سنّاہٹے سے باغ میں طرز میرے نالے کی بلبل نے سیکھی ہے ابھی زیر دیوار اس کے کس امید پر تو میر ہے ایک دو نے جان اس دروازے پر دی ہے ابھی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR