میر تقی میر میر تقی میر

لطف ہے کیا انواع ستم جو اس کے کوئی بیان کرے

لطف ہے کیا انواع ستم جو اس کے کوئی بیان کرے گوش زد اک دن ہوویں کہیں تو بے لطفی سے زبان کرے ہم تو چاہ کر اس پتھر کو سخت ندامت کھینچی ہے چاہ کرے اب وہ کوئی جو چاہت کا ارمان کرے سودے میں دل کے نفع جو چاہے خام طمع سودائی ہے وارا سارا عشق میں کیسا جی کا بھی نقصان کرے حشر کے ہنگامے میں چاہیں دادعشق تو حسن نہیں کاشکے یاں وہ ظالم اپنے دل ہی میں دیوان کرے آتش خو مغرور سے ویسے عہدہ برآ کیا عاشق ہو دل کو جلاوے منت رکھے جی مارے احسان کرے یمن عشق غم افزا سے کام نہایت مشکل ہے اب بھی نہیں نومیدی دل کو شاید عشق آسان کرے کہنے میں یہ بات آتی نہیں ہو سیر خدا کی قدرت کی موند کر آنکھیں میر اگر تو دل کی طرف ٹک دھیان کرے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR