میر تقی میر میر تقی میر

میں تو تنک صبری سے اپنی رہ نہیں سکتا اک دم بھی

میں تو تنک صبری سے اپنی رہ نہیں سکتا اک دم بھی ناز و غرور بہت ہے اس کا لطف نہیں ہے کم کم بھی جامۂ احرام آخر تہ کر دل کی اور توجہ کی در پہ حرم کے اس لیے تھے ہم کوئی ملے گا محرم بھی دیکھ ہوا کو طائر گلشن کس حسرت سے کہتے تھے گل ہی چلے جاتے نہیں یاں سے چلنے کو بیٹھے ہیں ہم بھی کیا کیا میں بیتاب رہا ہوں رنج و الم سے محبت کے ہے عالم کچھ اور ہی میرے دل کے مرض کا عالم بھی پنبہ و داغ کیا ہے کیا کیا اچھے ہونے والے نہ تھے زخموں پر چھاتی کے میری رکھ دیکھو نہ مرہم بھی گرم ہوا ہے ہو گا جوہر سیر چمن کی کر لیجے پھول بکھرتے جاتے ہیں کچھ آخر ہے اب موسم بھی نعل جڑے سینے کو کوٹا چہرے نچے پر خاک ملی میر کیا ہے میں نے نہایت دل جانے کا ماتم بھی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR