میر تقی میر میر تقی میر

گرمی سے عاشقی کی آخر کو ہو رہا کچھ

گرمی سے عاشقی کی آخر کو ہو رہا کچھ پانی ہوا ہے کچھ تو میرا جگر جلا کچھ آزردہ دل ہزاروں مرتے ہی ہم سنے ہیں بیماری دلی کی شاید نہیں دوا کچھ وارفتہ ہے گلستاں اس روے چمپئی کا ہے فصل گل پہ گل کا اب وہ نہیں مزہ کچھ وہ آرسی کے آگے پہروں ہے بے تکلف منھ سے ہمارے اس کو آتی نہیں حیا کچھ دل ہی کے غم میں گذرے دس دن جو عمر کے تھے اچرج ہے اس نگر سے جاتا نہیں دہا کچھ منھ کر بھی میری جانب سوتا نہیں کبھو وہ کیا جانوں اس کے جی میں ہے اس طرف سے کیا کچھ دل لے فقیر کا بھی ہاتھوں میں دل دہی کر آجائے ہے جہاں میں آگے لیا دیا کچھ یاروں کی آہ و زاری ہووے قبول کیوں کر ان کی زباں میں کچھ ہے دل میں ہے کچھ دعا کچھ ساری وہی حقیقت ملحوظ سب میں رکھیے کہیے نمود ہووے جو اس کے ماسوا کچھ حرف و سخن کی اس سے اپنی مجال کیا ہے ان نے کہا ہے کیا کیا میں نے اگر کہا کچھ کب تک یہ بدشرابی پیری تو میر آئی جانے کے ہو مہیا اب کر چلو بھلا کچھ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR