میر تقی میر
صبر کہاں جو تم کو کہیے لگ کے گلے سے سو جائو
صبر کہاں جو تم کو کہیے لگ کے گلے سے سو جائو
بولو نہ بولو بیٹھو نہ بیٹھو کھڑے کھڑے ٹک ہوجائو
برسے ہے غربت سی غربت گور کے اوپر عاشق کی
ابر نمط جو آئو ادھر تو دیکھ کے تم بھی رو جائو
میر جہاں ہے مقامرخانہ پیدا یاں کا نہ پیدا ہے
آئو یہاں تو دائو نخستیں اپنے تئیں بھی کھو جائو