میر تقی میر میر تقی میر

جی کی لاگ بلا ہے کوئی دل جینے سے اٹھا بیٹھو

جی کی لاگ بلا ہے کوئی دل جینے سے اٹھا بیٹھو ہوکے فقیر گلی میں کسو کی رنج اٹھائو جا بیٹھو کیا دیکھو ہو آگا پیچھا عشق اگر فی الواقع ہے ایک دم اس بے چشم و رو کی تیغ تلے بھی جا بیٹھو ایک سماں تھا وصل کا اس کے سیج پہ سوئے پھولوں کی اب ہے زمان فراق بچھونے خار و خسک کے بچھا بیٹھو کام کی صورت اپنے پیارے کیا بگڑی ہے کیا کہیے آئو کبھو مدت میں یاں تو اچھے منھ کو بنا بیٹھو ٹیڑھی چال سے اس کی خائف چپکے کھڑے کیا پھرتے ہو سیدھی سیدھی دوچار اس کو جرأت کرکے سنا بیٹھو ٹیڑھی بھویں دشمن پہ کرو ہو عشق و ہوس میں تمیز کرو یعنی تیغ ستم ایک اس کو چلتے پھرتے لگا بیٹھو نکلا خط پشت لب اس کا خضر و مسیحا مرنے لگے سوچتے کیا ہو میر عبث اب زہر منگا کر کھا بیٹھو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR