میر تقی میر
رفتن رنگین گل رویاں سے کیا ٹھہرائو ہو
رفتن رنگین گل رویاں سے کیا ٹھہرائو ہو
ساتھ ان کے چل تماشا کرلے جس کو چائو ہو
قد جو خم پیری سے ہو تو سرکا دھننا ہیچ ہے
ہوچکا ہونا جو کچھ تھا اب عبث پچھتائو ہو
خون کے سیلاب میں ڈوبے ہوئوں کا کیا شمار
ٹک بہے وہ جدول شمشیر تو ستھرائو ہو
تھی وفا و مہر تو بابت دیارعشق کی
دیکھیں شہر حسن میں اس جنس کا کیا بھائو ہو
گریۂ خونیں سے ہیں رخسار میرے لعل تر
دیدئہ خوں بار یوں ہیں جیسے منھ پر گھائو ہو