میر تقی میر
جی رکا رکنے سے پرے کچھ تو
جی رکا رکنے سے پرے کچھ تو
آسماں آگیا ورے کچھ تو
جو نہ ہووے نماز کریے نیاز
آدمی چاہیے کرے کچھ تو
طالع و جذب و زاری و زر و زور
عشق میں چاہیے ارے کچھ تو
جینا کیا ہے جہان فانی کا
مرتے جاتے ہیں کچھ مرے کچھ تو
سہمے سہمے نظر پڑیں ہیں میر
اس کے اطوار سے ڈرے کچھ تو