میر تقی میر
آج ہمارا سر دکھتا ہے صندل کا بھی نام نہ لو
آج ہمارا سر دکھتا ہے صندل کا بھی نام نہ لو
رنگ اس کا کہیں یاد نہ دے زنہار اس سے کچھ کام نہ لو
یاد آئے وہ کیا تڑپے ہے کیا بیتابی کرتا ہے
کوئی تسلی پھر ہوتا ہے جب تک دل کو تھام نہ لو
میر کہاں تک بے خوابی وہ میں ہوں ٹک جو سلاتا ہوں
بس جو تمھارا کچھ بھی چلے تو ایک گھڑی آرام نہ لو