میر تقی میر میر تقی میر

عجب گر تیری صورت کا نہ کوئی یار عاشق ہو

عجب گر تیری صورت کا نہ کوئی یار عاشق ہو جو صحن خانہ میں تو ہو در و دیوار عاشق ہو تجھے اک بار اگر دیکھے کوئی بے جا ہو دل اس کا خرام ناز پر تیرے لٹا گھر بار عاشق ہو تری چھاتی سے لگنا ہار کا اچھا نہیں لگتا مباد اس وجہ سے گل رو گلے کا ہار عاشق ہو ہوا ہے مخترع بے رحم خوں ریزی بھی کرنے میں نہ مارے جان سے جب تک نہ منت دار عاشق ہو سزا ہے عشق میں زرد و زبون و زار ہی ہونا نہ عاشق کہیے ان رنگوں نہ جو بیمار عاشق ہو پڑے سایہ کسو کا تیرے بستر پر تو تو چونکے وہی لے کام تجھ سے جو کوئی پرکار عاشق ہو نہیں بازار گرمی ایک دو خواہندہ پر اس کی اگر وہ رشک یوسف آوے تو بازار عاشق ہو غریبوں کی تو پگڑی جامے تک لے ہے اتروا تو تجھے اے سیم بر لے بر میں جو زردار عاشق ہو لگو ہو زار باراں رونے چلتے بات چاہت کی کہیں ان روزوں تم بھی میر صاحب زار عاشق ہو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR