میر تقی میر میر تقی میر

وہ نہیں اب کہ فریبوں سے لگا لیتے ہیں

وہ نہیں اب کہ فریبوں سے لگا لیتے ہیں ہم جو دیکھیں ہیں تو وے آنکھ چھپا لیتے ہیں کچھ تفاوت نہیں ہستی و عدم میں ہم بھی اٹھ کے اب قافلۂ رفتہ کو جا لیتے ہیں نازکی ہائے رے طالع کی نکوئی سے کبھو پھول سا ہاتھوں میں ہم اس کو اٹھا لیتے ہیں صحبت آخر کو بگڑتی ہے سخن سازی سے کیا درانداز بھی اک بات بنا لیتے ہیں ہم فقیروں کو کچھ آزار تمھیں دیتے ہو یوں تو اس فرقے سے سب لوگ دعا لیتے ہیں چاک سینے کے ہمارے نہیں سینے اچھے انھیں رخنوں سے دل و جان ہوا لیتے ہیں میر کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR