میر تقی میر میر تقی میر

بھلا ہوا کہ دل مضطرب میں تاب نہیں

بھلا ہوا کہ دل مضطرب میں تاب نہیں بہت ہی حال برا ہے اب اضطراب نہیں جگر کا لوہو جو پانی ہو بہ نکلتا تھا سو ہو چکا کہ مری چشم اب پرآب نہیں دیار حسن میں دل کی نہیں خریداری وفا متاع ہے اچھی پہ یاں کے باب نہیں حساب پاک ہو روز شمار میں تو عجب گناہ اتنے ہیں میرے کہ کچھ حساب نہیں گذر ہے عشق کی بے طاقتی سے مشکل آہ دنوں کو چین نہیں ہے شبوں کو خواب نہیں جہاں کے باغ کا یہ عیش ہے کہ گل کے رنگ ہمارے جام میں لوہو ہے سب شراب نہیں تلاش میر کی اب میکدوں میں کاش کریں کہ مسجدوں میں تو وہ خانماں خراب نہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR