میر تقی میر میر تقی میر

خوبی رو و چشم سے آنکھیں اٹک گئیں

خوبی رو و چشم سے آنکھیں اٹک گئیں پلکوں کی صف کو دیکھ کے بھیڑیں سرک گئیں چلتے سمندناز کی شوخی کو اس کے دیکھ گھوڑوں کی باگیں دست سپہ سے اچک گئیں ترچھی نگاہیں پلکیں پھریں اس کی پھرپھریں سو فوجیں جو دو رستہ کھڑی تھیں بہک گئیں بجلی سا مرکب اس کا کڑک کر چمک گیا لوگوں کے سینے پھٹ گئے جانیں دھڑک گئیں محبوب کا وصال نہ ہم کو ہوا نصیب دل سے ہزار خواہشیں سر کو پٹک گئیں موقوف طور نور کا جھمکا ترا نہیں چمکا جہاں تو برق سا آنکھیں جھپک گئیں وحشت سے بھر رہی تھی بزن گہ جہان کی جانیں بسان طائر بسمل پھڑک گئیں گرد رہ اس کی دیکھتے اپنے اٹھی نہ حیف اب منتظر ہو آنکھیں مندیں یعنی تھک گئیں بھردی تھی چشم ساقی میں یارب کہاں کی مے مجلس کی مجلسیں نظر اک کرتے چھک گئیں کیا میر اس کی نوک پلک سے سخن کرے سرتیز چھریاں گڑتی جگر دل تلک گئیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR