میر تقی میر میر تقی میر

چاہیے یوں تھا بگڑی صحبت آپھی آ کے بناتے تم

چاہیے یوں تھا بگڑی صحبت آپھی آ کے بناتے تم رحلت کرنے سے آگے مجھ کو دیکھتے آتے جاتے تم چلتے کہا تھا جائو سفر کر آئوگے تو ملیے گا وعدئہ وصل نہ ہوتا تو پھر کس کو جیتا پاتے تم کیا دن تھے وے دیکھتے تم کو نیچی نظر میں کرلیتا شرما شرما لوگوں سے جب آنکھیں مجھ کو دکھاتے تم بستر پر میں مردہ سا تھا جان سی مجھ میں آجاتی کیا ہوتا جو رنجہ قدم کر میرے سرہانے آتے تم دل کے اوپر ہاتھ رکھے ہی شام و سحر یاں گذرے ہے حال یہ تھا تو دل عاشق کا ہاتھ میں ٹک تو لاتے تم خاک ہے اصل طینت آدم چاہیے اس کو عجز کرے بات کی تہ کو کچھ پاتے تو اتنا سر نہ اٹھاتے تم چہرہ زرد بجا ہے سارا عشق میں غم کا مارا ہوں رنگ یہ دیکھا ہوتا تو دل میر کہیں نہ لگاتے تم

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR