میر تقی میر
عشق بتوں سے اب نہ کریں گے عہد کیا ہے خدا سے ہم
عشق بتوں سے اب نہ کریں گے عہد کیا ہے خدا سے ہم
آجاویں جو یہ ہرجائی تو بھی نہ جاویں جا سے ہم
گریۂ خونیں ٹک بھی رہے تو خاک سی منھ پر اڑتی ہے
شام و سحر رہتے ہیں یعنی اپنے لہو کے پیاسے ہم
اس کی نہ پوچھو دوری میں ان نے پرسش حال ہماری نہ کی
ہم کو دیکھو مارے گئے ہیں آکر پاس وفا سے ہم
چپکے کیا انواع اذیت عشق میں کھینچی جاتی ہے
دل تو بھرا ہے اپنا تو بھی کچھ نہیں کہتے حیا سے ہم
کیا کیا عجز کریں ہیں لیکن پیش نہیں کچھ جاتا میر
سر رگڑے ہیں آنکھیں ملیں ہیں اس کے حنائی پا سے ہم