میر تقی میر
صبر کیا جاتا نہیں ہم سے رہ کے جدا نہ ستائو تم
صبر کیا جاتا نہیں ہم سے رہ کے جدا نہ ستائو تم
پائوں کا رکھنا گرچہ ادھر کو عار سے ہے پر آئو تم
جس کے تئیں پروا ہو کسو کی آنا جانا اس کا ہے
نیک ہو یا بد حال ہمارا تم کو کیا ہے جائو تم
چپ ہیں کچھ جو نہیں کہتے ہم کار عشق کے حیراں ہیں
سوچو حال ہمارا ٹک تو بات کی تہ کو پائو تم
میر کو وحشت ہے گی قیامت واہی تباہی بکتے ہیں
حرف و حکایت کیا مجنوں کی دل میں کچھ مت لائو تم