میر تقی میر میر تقی میر

شاید ہم سے ضد رکھتے ہو آتے نہیں ٹک ایدھر تم

شاید ہم سے ضد رکھتے ہو آتے نہیں ٹک ایدھر تم سب سے گلی کوچوں میں ملو ہو پھرتے رہو ہو گھر گھر تم کیا رکھیں یہ تم سے توقع خاک سے آ کے اٹھائوگے راہ میں دیکھو افتادہ تو اور لگائو ٹھوکر تم اس سے زیادہ ہوتا نہ ہو گا دنیا میں بھی نچلاپن سون کسے بیٹھے رہتے ہو حال ہمارا سن کر تم لطف و مہر و خشم و غضب ہم ہر صورت میں راضی ہیں حق میں ہمارے کر گذرو بھی جو کچھ جانو بہتر تم رنگ ہمارا جیسا اب ہے کاہے کو آگے ایسا تھا پاؤں میں مہندی اپنے لگا کر آفت لائے سر پر تم لوگ صنم کہتے تھے تم کو ان سمجھے تھے ہم محظوظ سختی سی سختی کھینچی گئی یعنی نکلے پتھر تم چپکے سے کچھ آجاتے ہو آنکھیں بھر بھر لاتے ہو میر گذرتی کیا ہے دل پر کڑھا کرو ہو اکثر تم

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR