میر تقی میر میر تقی میر

عشق کی چوٹیں پے درپے جو اٹھائی گئیں گھائل ہے دل

عشق کی چوٹیں پے درپے جو اٹھائی گئیں گھائل ہے دل یوں بے دم ہے اب پہلو میں جوں صید بسمل ہے دل خون ہوا ہے چاک ہوا ہے جلتے جلتے داغ ہوا خواہش اس کو کیا ہے بارے کس کے لیے بیدل ہے دل عشق کی بجلی آ کے گری سو داغ ہوا ہے سر تا سر کیا رووے جوں ابر کوئی اس مزرع کا حاصل ہے دل یوں تو گرہ سینے میں ہمارے درد و غم کی ہوکے رہا کس سے ظاہر کرتے جاکر کام بہت مشکل ہے دل آنکھوں کی دیکھا دیکھی ہرگز دل کو اس سے نہ لگنا تھا جیسی سزا پہنچاوے کوئی اب اس کے قابل ہے دل عمر انساں راہ تو ہے تشویش سے طے ہوتی ہے ولے دل کے تئیں پہنچے جو کوئی چین کی پھر منزل ہے دل شہد لب سے اس کے چپکا جی کا صرفہ کچھ نہ کیا میر جو دیکھا اپنے حق میں کیا زہر قاتل ہے دل

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR