میر تقی میر
بلبل نے کل کہا کہ بہت ہم نے کھائے گل
بلبل نے کل کہا کہ بہت ہم نے کھائے گل
لیکن ہزار حیف نہ ٹھہری ہواے گل
رعنا جوان شہر کے رہتے ہیں گل بسر
سر پر ہمارے داغ جنوں کے ہیں جاے گل
دل لوٹنے پہ مرغ چمن کے نہ کی نظر
بے درد گل فروش سبد بھر کے لائے گل
حیف آفتاب میں پس دیوار باغ ہیں
جوں سایہ وا کشیدہ ہوئے ہم نہ پاے گل
بوے گل و نواے خوش عندلیب میر
آئی چلی گئی یہی کچھ تھی وفاے گل