میر تقی میر میر تقی میر

وحشت ہے ہمیں بھی وہی گھر بار سے اب تک

وحشت ہے ہمیں بھی وہی گھر بار سے اب تک سر مارے ہیں اپنے در و دیوار سے اب تک مرتے ہی سنا ان کو جنھیں دل لگی کچھ تھی اچھا بھی ہوا کوئی اس آزار سے اب تک جب سے لگی ہیں آنکھیں کھلی راہ تکے ہیں سوئے نہیں ساتھ اس کے کبھو پیار سے اب تک آیا تھا کبھو یار سو مامول ہم اس کے بستر پہ گرے رہتے ہیں بیمار سے اب تک بدعہدیوں میں وقت وفات آن بھی پہنچا وعدہ نہ ہوا ایک وفا یار سے اب تک ہے قہر و غضب دیکھ طرف کشتے کے ظالم کرتا ہے اشارت بھی تو تلوار سے اب تک کچھ رنج دلی میر جوانی میں کھنچا تھا زردی نہیں جاتی مرے رخسار سے اب تک

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR