میر تقی میر
نزدیک عاشقوں کے زمیں ہے قرارعشق
نزدیک عاشقوں کے زمیں ہے قرارعشق
اور آسماں غبار سر رہ گذار عشق
مقبول شہر ہی نہیں مجنوں ضعیف و زار
ہے وحشیان دشت میں بھی اعتبارعشق
گھر کیسے کیسے دیں کے بزرگوں کے ہیں خراب
القصہ ہے خرابۂ کہنہ دیارعشق
گو ضبط کرتے ہوویں جراحت جگر کے زخم
روتا نہیں ہے کھول کے دل رازدارعشق
مارا پڑے ہے انس ہی کرنے میں ورنہ میر
ہے دورگرد وادی وحشت شکارعشق