میر تقی میر
دل کا مطالعہ کر اے آگہ حقائق
دل کا مطالعہ کر اے آگہ حقائق
ہیں فن عشق کے بھی مشکل بہت دقائق
چھاتی جلوں کے آگے کھنچتا ہے بیشتر دل
ایک آشنا ہے مجھ سے اس باغ میں شقائق
ہے راستی کہ انساں مشتق ہے انس ہی سے
بیماری دوستی کی ہے دشمن خلائق
جی سارے تن کا کھنچ کر آنکھوں میں آرہا ہے
کس مرتبے میں ہم بھی ہیں دیکھنے کے شائق
کل میرجی نے ضائع اپنے تئیں کیا ہے
یہ کام تھا نہ ان کی شائستگی کے لائق