میر تقی میر
عشق ہمارا جی مارے ہے ہم ناداں ہیں کیا محظوظ
عشق ہمارا جی مارے ہے ہم ناداں ہیں کیا محظوظ
ایسی شے کا زیاں کھینچے تو دانا ہووے نامحظوظ
پانی منھ میں بھر آتا تھا اس کے عقیق لب دیکھے
اب ہے تشنہ کام جدائی میر وگرنہ تھا محظوظ