میر تقی میر
وہ مخطط ہے محو ناز ہنوز
وہ مخطط ہے محو ناز ہنوز
کچھ پذیرا نہیں نیاز ہنوز
کیا ہوا خوں ہوا کہ داغ ہوا
دل ہمارا نہیں گداز ہنوز
سادگی دیکھ اس جفاجو سے
ہم نہیں کرتے احتراز ہنوز
ایک دن وا ہوئی تھی اس منھ پر
آرسی کی ہے چشم باز ہنوز
معتبر کیا ہے میر کی طاعت
رہن بادہ ہے جانماز ہنوز