میر تقی میر
جدائی تا جدائی فرق ہے ملتے بھی ہیں آکر
جدائی تا جدائی فرق ہے ملتے بھی ہیں آکر
فراق ایسا نہیں ہوتا کہ پھر آتے نہیں جاکر
اگرچہ چپ لگی ہے عاشقی کی مجھ کو حیرت سے
کبھو احوال پرسی تو کرو دل ہاتھ میں لاکر
جو جانوں تجھ میں بلبل تہ نہیں تو کیوں زباں دیتا
زباں کر بند سارے باغ میں مجھ کو نہ رسوا کر
فلک نے باغ سے جوں غنچۂ نرگس نکالا ہے
کہیں کیا جانوں کیا دیکھوں گا چشم بستہ کو وا کر
سبد پھولوں بھرے بازار میں آئے ہیں موسم میں
نکل کر گوشۂ مسجد سے تو بھی میر سودا کر