میر تقی میر میر تقی میر

یہ لطف اور پوچھا مجھ سے خطاب کر کر

یہ لطف اور پوچھا مجھ سے خطاب کر کر کاے میر کچھ کہیں ہم تجھ کو عتاب کر کر چھاتی جلی ہے کیسی اڑتی جو یہ سنی ہے واں مرغ نامہ بر کا کھایا کباب کر کر خوں ریزی سے کچھ آگے تشہیر کر لیا تھا اس دل زدے کو ان نے مارا خراب کر کر گنتی میں تو نہ تھا میں پر کل خجل ہوا وہ کچھ دوستی کا میری دل میں حساب کر کر روپوش ہی رہا وہ مرنے تک اپنے لیکن منھ پر نہ رکھا اس کے کچھ میں حجاب کر کر مستی و بے خودی میں آسودگی بہت تھی پایا نہ چین میں نے ترک شراب کر کر کیا جانیے کہ دل پر گذرے ہے میر کیا کیا کرتا ہے بات کوئی آنکھیں پرآب کر کر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR