میر تقی میر
کل سے دل کی کل بگڑی ہے جی مارا بے کل ہوکر
کل سے دل کی کل بگڑی ہے جی مارا بے کل ہوکر
آج لہو آنکھوں میں آیا درد و غم سے رو رو کر
ایک سجود خلوص دل سے آہ کیا نہ جوانی میں
سر مارے ہیں محرابوں میں یوں ہی وقت کو اب کھو کر
جیب دریدہ خاک ملوں کے حال سے کیا آگاہی تمھیں
راہ چلو ہو نازکناں دامن کو لگا کر تم ٹھوکر
ایک تو ہم تو ہوتے نہیں ہیں سر بہتیرا مار چکے
اب بہتر ہے تیغ ستم کی جلد لگا کر تو دوکر
جی ہی ملا جاتا ہے اپنا میر سماں یہ دیکھے سے
آنکھیں ملتے اٹھتے ہیں بستر سے دلبر جب سو کر