میر تقی میر
تجھ کو ہے سوگند خدا کی میری اور نگاہ نہ کر
تجھ کو ہے سوگند خدا کی میری اور نگاہ نہ کر
چشم سیاہ ملاکر یوں ہی مجھ کو خانہ سیاہ نہ کر
عشق و محبت یاری میں اک لطف رکھے ہے کرنا ضبط
چھاتی پہ جو ہو کوہ الم کا تو بھی نالہ وآہ نہ کر
مانگ پناہ خدا سے بندے دل لگنا اک آفت ہے
عشق نہ کر زنہار نہ کر واللہ نہ کر باللہ نہ کر
گھاس ہے میخانے کی بہتر ان شیخوں کے مصلے سے
پائوں نہ رکھ سجادے پہ ان کے اس جادے سے راہ نہ کر
میر نہ ہم کہتے تھے تجھ سے حال نہیں کچھ رہنے کا
چاہ بلاے جان و دل ہے آ جانے دے چاہ نہ کر