میر تقی میر
شعر دیواں کے میرے کر کر یاد
شعر دیواں کے میرے کر کر یاد
مجنوں کہنے لگا کہ ہاں استاد
خود کو عشق بتاں میں بھول نہ جا
متوکل ہو کر خدا کو یاد
سب طرف کرتے ہیں نکویاں کی
کس سے جا کر کوئی کرے فریاد
وحشی اب گردباد سے ہم ہیں
عمر افسوس کیا گئی برباد
چار دیواری عناصر میر
خوب جاگہ ہے پر ہے بے بنیاد