میر تقی میر
تن کو جس جاگہ سے چھیڑوں ہوں وہاں ہے درد درد
تن کو جس جاگہ سے چھیڑوں ہوں وہاں ہے درد درد
ہاتھ لگتے دل کے ہوجاتا ہوں کچھ میں زرد زرد
اب تو وہ حسرت سے آہ و نالہ کرنا بھی گیا
کوئی دم ہونٹوں تک آجاتا ہے گاہے سرد سرد