میر تقی میر میر تقی میر

جاوے جدائی کا یہ آزار گاہ باشد

جاوے جدائی کا یہ آزار گاہ باشد اچھا بھی ہووے دل کا بیمار گاہ باشد امیدوار اس کے ملنے کے جیسے ہیں ہم آ نکلے ناز کرتا یاں یار گاہ باشد گو قدر دل کی کم ہے پر چیز کام کی ہے لے تو رکھیں تمھیں ہو درکار گاہ باشد کہتا ہوں سو کرے ہے لیکن رہوں ہوں ڈرتا آوے کسو سخن پر تکرار گاہ باشد کہتے تو ہیں گئے سو کب آئے کیا کریں تب جو خواب مرگ سے ہوں بیدار گاہ باشد غصے سے اپنے ابرو جو خم کرے ہے ہر دم وہ اک لگا بھی بیٹھے تلوار گاہ باشد غیرت سے عشق کی ڈر کیا شیخ کبر دینی تسبیح کا ہو رشتہ زنار گاہ باشد وحشت پہ میری مت جا غیرت بہت ہے مجھ کو ہو بیٹھوں مرنے کو بھی تیار گاہ باشد ہے ضبط عشق مشکل ہوتا نہیں کسو سے ڈر میر بھی ہو اس کا اظہار گاہ باشد

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR