میر تقی میر میر تقی میر

رنج کیا کیا ہم نے کھینچے دوستی یاری کے بیچ

رنج کیا کیا ہم نے کھینچے دوستی یاری کے بیچ کیا ہوئی تقصیر اس کی نازبرداری کے بیچ دوش و آغوش و گریباں دامن گلچیں ہوئے گل فشانی کر رہی ہے چشم خونباری کے بیچ ایک کو اندیشۂ کار ایک کو ہے فکر یار لگ رہے ہیں لوگ سب چلنے کی تیاری کے بیچ منتظر تو رہتے رہتے پھر گئیں آنکھیں ندان وہ نہ آیا دیکھنے ہم کو تو بیماری کے بیچ جان کو قید عناصر سے نہیں ہے وارہی تنگ آئے ہیں بہت اس چار دیواری کے بیچ روتے ہی گذری ہمیں تو شب نشینی باغ کی اوس سی پڑتی رہی ہے رات ہر کیاری کے بیچ یاد پڑتا ہے جوانی تھی کہ آئی رفتگی ہو گیا ہوں میں تو مست عشق ہشیاری کے بیچ ایک ہوویں جو زبان و دل تو کچھ نکلے بھی کام یوں اثر اے میر کیا ہو گریہ و زاری کے بیچ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR