میر تقی میر میر تقی میر

آگے تو رسم دوستی کی تھی جہاں کے بیچ

آگے تو رسم دوستی کی تھی جہاں کے بیچ اب کیسے لوگ آئے زمیں آسماں کے بیچ میں بے دماغ عشق اٹھا سو چلا گیا بلبل پکارتی ہی رہی گلستاں کے بیچ تحریک چلنے کی ہے جو دیکھو نگاہ کر ہیئت کو اپنی موجوں میں آب رواں کے بیچ کیا میل ہو ہما کی پس از مرگ میری اور ہے جاے گیر عشق کی تب استخواں کے بیچ کیا جانوں لوگ کہتے ہیں کس کو سرور قلب آیا نہیں یہ لفظ تو ہندی زباں کے بیچ طالع سے بن گئی کہ ہم اس مہ کنے گئے بگڑی تھی رات اس کے سگ و پاسباں کے بیچ اتنی جبین رگڑی کہ سنگ آئینہ ہوا آنے لگا ہے منھ نظر اس آستاں کے بیچ خوگر ہوئے ہیں عشق کی گرمی سے خار و خس بجلی پڑی رہی ہے مرے آشیاں کے بیچ اس روے برفروختہ سے جی ڈرے ہے میر یہ آگ جا لگے گی کسو دودماں کے بیچ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR