میر تقی میر میر تقی میر

دیر کب رہنا ملے ہے یاں نہیں مہلت بہت

دیر کب رہنا ملے ہے یاں نہیں مہلت بہت دے کسے فرصت سپہر دوں ہے کم فرصت بہت کم نہیں دیوانہ ہونا بھی ہمارا دفعتہ ڈریے ہوجاوے خردور کی جو پلٹے مت بہت گریہ و زاری سے روز وشب کی شکوے کچھ نہیں مجھ کو رونا یہ ہے جی کو اس سے ہے الفت بہت کیا وداع اس یار کے کوچے سے ہم مشکل ہوئے زار باراں لوگ روتے تھے دم رخصت بہت بعد مرگ آنکھیں کھلی رہنے سے یہ جانا گیا دیکھنے کی اس کے میرے جی میں تھی حسرت بہت سن کے ضائع روزگاری اس کی جی لایا نہ تاب آپ کو کر بیٹھے ضائع ہم کو تھی غیرت بہت آنکھیں جاتی ہیں مندی ضعف دلی سے دم بہ دم ان دنوں ان کو بھی ایدھر ہی سے ہے غفلت بہت دل گئے پر آج کل سے چپ نہیں مجھ کو لگی گذری اس بھی بات کو اے ہم نفس مدت بہت دل میں جا کرتا ہے طورمیر شاید دوستاں ان نے صاحب دل کسو سے رکھی ہے صحبت بہت

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR