میر تقی میر
جوش رونے کا مجھے آیا ہے اب
جوش رونے کا مجھے آیا ہے اب
دیدئہ تر ابر سا چھایا ہے اب
ٹیڑھے بانکے سیدھے سب ہوجائیں گے
اس کے بالوں نے بھی بل کھایا ہے اب
ہوں بخود تو کوئی پہنچے مجھ تلک
بے خودی نے دور پہنچایا ہے اب
کاش کے ہوجائے سینہ چاک چاک
رکتے رکتے جی بھی گھبرایا ہے اب
راہ پر وہ کیونکے آوے مست ناز
دشمنوں نے اس کو بہکایا ہے اب
کیا جئیں گے داغ ہوکر خوں ہوا
زندگی کا دل جو سرمایہ ہے اب
میر شاید کعبے ہی میں رہ پڑے
دیر سے تو یاں خدا لایا ہے اب