میر تقی میر
درد سر کا پہر پہر ہے اب
درد سر کا پہر پہر ہے اب
زندگانی ہی درد سر ہے اب
وہ دماغ ضعیف بھی نہ رہا
بے دماغی ہی بیشتر ہے اب
کیا ہمیں ہم تو ہو چلے ٹھنڈے
گرم گو یار کی خبر ہے اب
کیا کہیں حال خاطر آشفتہ
دل خدا جانیے کدھر ہے اب
عزلتی میر جوں صبا اس بن
خاک بر سر ہے دربدر ہے اب