میر تقی میر میر تقی میر

بیکار بھی درکار ہیں سرکار میں صاحب

بیکار بھی درکار ہیں سرکار میں صاحب آتے ہیں کھنچے ہم کبھو بیگار میں صاحب محروم نہ رہ جائیں کہیں بعدفنا بھی شبہ، ہے ہمیں یار کے دیدار میں صاحب لیتی ہے ہوا رنگ سراپا سے تمھارے معلوم نہیں ہوتے ہو گلزار میں صاحب رہتا تھا سرزلف بھی زیرکلہ آگے سو بال گھڑس نکلے ہیں دستار میں صاحب ہے چار طرف شور مری بے خبری کا کیا کیا خبریں آتی ہیں اخبار میں صاحب گو فہم نہ ہو کفر کی اسلام کی نسبت رشتہ ہے عجب سبحہ و زنار میں صاحب یا گفتگو کا میری نہ کرتے تھے کبھو ذکر یا ہر سخن اب آوے ہے تکرار میں صاحب طالع سے زلیخا نے لیا مصر میں یوسفؑ کب ایسا غلام آوے ہے بازار میں صاحب رکھتی ہے لکھا ساتھ مٹا دینے کا میرے جوہر نہیں ہے آپ کی تلوار میں صاحب یہ عرض مری یاد رہے بندگی میں میر جی بچتے نہیں عشق کے اظہار میں صاحب

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR