میر تقی میر
وفاداری نے جی مارا ہمارا
وفاداری نے جی مارا ہمارا
اسی میں ہو گا کچھ وارا ہمارا
چڑھی تیوری کبھو اس کی نہ اتری
غضب ہے قہر ہے پیارا ہمارا
رہا افسوس آنکھیں تر ہوئیں تو
کہ آنسو تھا جگر پارہ ہمارا
گلہ لب تک نہ آیا میر ہرگز
کھپا جی ہی میں غم سارا ہمارا